ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / نیشنل ہائی وے بائی پاس کے خلاف کمٹہ میں احتجاج۔۔ خالی ہاتھ لوٹی سروے ٹیم

نیشنل ہائی وے بائی پاس کے خلاف کمٹہ میں احتجاج۔۔ خالی ہاتھ لوٹی سروے ٹیم

Mon, 23 Jan 2017 18:32:01    S.O. News Service

کمٹہ 23/جنوری (ایس او نیوز)کمٹہ میں نیشنل ہائی وے کے توسیعی منصوبے کے تحت شہرکے باہر سے بائی پاس سڑک تعمیر کرنے کا منصوبہ کھٹائی میں پڑتا دکھائی دے رہا ہے۔ کیونکہ مضافات سے بائی پاس کرنے کے لئے مقامی افراد اپنی زمینیں سرکاری تحویل میں دینے کو تیار نہیں ہیں۔ان کا الزام ہے کہ نیشنل ہائی کی توسیع شہر کے اندر سے ہی کرنے کا منصوبہ جو پہلے سے طے تھا اب اس میں کچھ بااثر لوگوں کی جائیداد بچانے کے لئے سیاسی مداخلت سے ترمیم کی گئی ہے اور اسے شہر کے مضافات سے بائی پاس میں بدلنے کا پلان بنایا گیا ہے۔ جس کے تحت سینکڑوں غریبوں کے مکانات ڈھائے جائیں گے اور ان کی زمینیں چھن جائیں گی۔اس ضمن میں کچھ مہینوں سے اس منصوبے کے خلاف احتجاجی آوازیں بلند ہورہی ہیں۔اس کی مخالفت کے لئے ایک عوامی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے۔

 اس احتجاج میں نیا موڑ اس وقت آیا جب پانچ افراد پر مشتمل ایک سروے ٹیم بائی پاس سڑک کے لئے زمین کا سروے کرنے کمٹہ کے مضافات ہیروٹّا اور سدّن باوی کے علاقے میں پہنچی۔جس میں این کون کمپنی کے اہلکار شریدھر ہاسن،ہیمنت،راکیش، مدھو سدن اور بی پی سریش شامل تھے۔جیسے ہی سروے ٹیم نے شام کے وقت ہیر وٹّا کی پنچوٹی کالونی کے پاس سروے کاکام شروع کیا تو مقامی لوگوں نے آس پاس کے گھروں سے باہر نکل کر زبردست احتجاج کرتے ہوئے سروے ٹیم کو آڑے ہاتھوں لیا اور کسی قیمت پر سروے کرنے کی اجازت نہیں دی۔

 اس ضمن میں جب محکمہ جنگلات کے افسران سے رابطہ قائم کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ جنگلاتی زمین پر سروے کرنے کے لئے ہم نے کسی سے کہا نہیں ہے۔ اور اس بارے میں ہمیں کوئی اطلاع بھی نہیں ہے۔ لہٰذا اس سروے سے ہمارا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔بائی پاس مخالف کمیٹی کے رکن ہریش شیٹھ نے اس موقع پرکسی کو بھی اطلاع دئے بغیر خاموشی سے سروے کی کوشش کرنے والوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہم کسی بھی قیمت پر اس علاقے میں سروے کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ جوبھی سروے کرنے کے لئے آئے گا اسے باندھ کر رکھیں گے۔ احتجاج میں شامل سنتوش کمار اور دیگر افراد نے کہا کہ سینکڑوں کو گھروں کو ڈھا کر بائی پاس کرنے کی ضرورت ہی آخر کیا ہے۔ شہر کے درمیان سے گزرنے والے ہائی وے کی توسیع اسی مقام پر کی جائے۔

 مقامی لوگوں کے اندر اس قدراشتعال تھا کہ بعض حضرات کو یہ کہتے ہوئے بھی سنا گیا کہ اپنے گھروں کو ڈھاکر پورے کے پورے خاندان کو سڑک پر آجانے سے بچانے کے لئے ہم خون خرابے کے لئے بھی تیار ہیں۔ یہاں سروے کے لئے جوبھی آئے گاہم اس کے ہاتھ پاؤں کاٹ کر رکھ دیں گے چاہے اس کے لئے ہمیں جیل کی سزا کیوں نہ بھگتنا پڑے۔لوگوں نے یہ سوال بھی کیے کہ زندگی بھر کی کمائی سے ہم لوگوں نے بڑی مشکلوں سے جو مکانات تعمیر کیے ہیں انہیں اگر ڈھا دیا جائے گا تو پھر دوسرا مکان بنانے کے لئے ہم رقم کہاں سے لائیں گے۔ یہ سوچ کر ہمارے دلوں میں آگ بھڑک اٹھتی ہے۔کسی نے یہ بھی کہا کہ میرا مکان ابھی ابھی تعمیر ہوا ہے۔ ابھی اس میں ہم نے رہنا بھی شروع نہیں کیا ہے۔ اگر یہ مکان ہم سے چھن گیا تو پھر ہم کیسے جی سکیں گے۔ 
 


Share: